❮
❯
حدیث نمبر: 10383
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ؛ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي، وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي، وَخَيْرًا لِي فِيمَا أَبْتَغِي بِهِ الْخَيْرَ، فَخِرْ لِي فِي عَافِيَةٍ، وَيَسِّرْهُ لِي، وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا لِي فَاقْدِرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں استخارہ (کی دعا) سکھاتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے بھلائی طلب کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے قدرت مانگتا ہوں، اور تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ معاملہ میرے دین میں میرے لیے بہتر ہے، میری معیشت میں میرے لیے بہتر ہے، اور اس چیز میں میرے لیے بہتر ہے جس کے ذریعے میں بھلائی چاہتا ہوں، تو عافیت کے ساتھ اسے میرے لیے اختیار فرما، اسے میرے لیے آسان بنا دے اور اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور اگر اس کے سوا کوئی اور چیز میرے لیے بہتر ہو تو بھلائی جہاں کہیں بھی ہو میرے لیے مقدر فرما دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10383
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 190، حدیث 10421