المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَاتِمٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَوَّلُ شَيْءٍ عَلِمْتُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمْتُ مَكَّةَ فِي عُمُومَةٍ لِي، فَأُرْشِدْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ إِلَى زَمْزَمَ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَابِ الصَّفَا، أَبْيَضُ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ، لَهُ وَفْرَةٌ، جَعْدٌ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ، أَشَمُّ، أَقْنَى، أَذْلَفُ، بَرَّاقُ الثنَايَا، أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، دَقِيقُ الْمَسْرُبَةَ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، كَأَنَّهُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، يَمْشِي عَلَى يَمِينِهِ غُلَامٌ أَمْرَدُ حَسَنُ الْوَجْهِ مُرَاهِقٌ أَوْ مُحْتَلِمٌ، تَقْفُوهُمُ امْرَأَةٌ قَدْ سَتَرَتْ مَحَاسِنَهَا، حَتَّى قَصَدَ نَحْوَ الْحَجَرِ، فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الْغُلَامُ، ثُمَّ اسْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَالْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ يَطُوفَانِ مَعَهُ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، وَقَامَ الْغُلَامُ عَنْ يَمِينِهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ خَلْفَهُمَا فَرَفَعَتْ يَدَيْهَا وَكَبَّرَتْ، وَأَطَالَ الْقُنُوتَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَنَتَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ مَعَهُ، يَصْنَعَانِ مِثْلَ مَا يَصْنَعُ وَيَتَّبِعَانِهِ، قَالَ: فَرَأَيْنَا شَيْئًا لَمْ يَكُنْ نَعْرِفُهُ بِمَكَّةَ، فَأَنْكَرْنَا، فَأَقْبَلْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ فَقُلْنَا: يَا أَبَا الْفَضْلِ، إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ فِيكُمْ، أَشَيْءٌ حَدَثَ؟ قَالَ: أَجَلْ وَاللهِ، أَمَا تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا، قَالَ: هَذَا ابْنُ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَالْغُلَامُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْمَرْأَةُ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، أَمَ وَاللهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى هَذَا الدِّينِ إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سب سے پہلی بات جو مجھے رسول اللہ ﷺ کے معاملے کے بارے میں معلوم ہوئی وہ یہ تھی کہ میں اپنے چند چچاؤں کے ساتھ مکہ آیا، ہمیں عباس بن عبدالمطلب کے پاس جانے کی رہنمائی دی گئی، ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ زمزم کے پاس بیٹھے تھے، ہم بھی ان کے پاس بیٹھ گئے۔ ہم ابھی ان کے پاس ہی تھے کہ باب الصفا کی طرف سے ایک آدمی آیا، سفید رنگت پر سرخی مائل، گھنگریالے بال کانوں کی لو تک، کشادہ ناک، دانتوں میں چمک، سیاہ آنکھوں والے، گھنی داڑھی، باریک سینے کے بال، ہاتھ پاؤں گٹھیلے، دو سفید کپڑے پہنے ہوئے، گویا چودھویں رات کا چاند ہوں۔ ان کے دائیں طرف ایک خوبصورت نوجوان لڑکا چل رہا تھا جو بلوغت کے قریب یا بالغ تھا، اور ان کے پیچھے ایک عورت چل رہی تھی جس نے اپنی زیبائش چھپا رکھی تھی۔ یہاں تک کہ وہ حجرِ اسود کی طرف بڑھے اور اسے بوسہ دیا، پھر لڑکے نے بوسہ دیا، پھر عورت نے بوسہ دیا۔ پھر انہوں نے بیت اللہ کا سات چکر طواف کیا، لڑکا اور عورت بھی ان کے ساتھ طواف کرتے رہے۔ پھر انہوں نے رکن (حجرِ اسود) کا استلام کیا، اپنے ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، اور لڑکا ان کے دائیں طرف کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ اٹھائے، اور عورت ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو کر اپنے ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی۔ پھر انہوں نے لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور کھڑے کھڑے قنوت کی، پھر سجدہ کیا اور لڑکے اور عورت نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا، وہ دونوں وہی کرتے جو وہ کرتے اور ان کی پیروی کرتے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: ہم نے ایسی چیز دیکھی جسے ہم مکہ میں نہیں جانتے تھے، تو ہمیں یہ عجیب لگا، ہم عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا: اے ابوالفضل! ہم تو یہ دین آپ لوگوں میں نہیں جانتے تھے، کیا کوئی نئی بات پیش آئی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! کیا تم انہیں نہیں پہچانتے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: یہ میرا بھتیجا محمد بن عبداللہ ہے، اور یہ لڑکا علی بن ابی طالب ہے، اور یہ عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ سن لو! اللہ کی قسم، روئے زمین پر اس دین پر اللہ کی عبادت کرنے والا ان تین کے سوا کوئی نہیں۔