المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حدیث نمبر: 10352
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَحْدَبُ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ الْكَلْبِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ إِبْرَاهِيمَ، يَدْفَعُ اللهُ بِهِمْ عَنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، يُقَالُ لَهُمُ الْأَبْدَالُ» ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُمْ لَمْ يُدْرِكُوهَا بِصَلَاةٍ وَلَا بِصَوْمٍ وَلَا صَدَقَةٍ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَبِمَ أَدْرَكُوهَا؟ قَالَ: «بِالسَّخَاءِ وَالنَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ہمیشہ چالیس ایسے آدمی رہیں گے جن کے دل ابراہیم علیہ السلام کے دل کی طرح ہوں گے، اللہ ان کے سبب زمین والوں سے (بلائیں) دور کرے گا، انہیں ابدال کہا جاتا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے یہ مقام نماز، روزے یا صدقے سے نہیں پایا۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر انہوں نے یہ مقام کس چیز سے پایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سخاوت اور مسلمانوں کی خیرخواہی سے۔“