المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حدیث نمبر: 10341
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: ضَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِهِ يَبْتَغِي عِنْدَهُنَّ طَعَامًا، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ؛ فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ» ، فَأُهْدِيَتْ إِلَيْهِ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَقَالَ: «هَذِهِ مِنْ فَضْلِ اللهِ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس مہمان آئے، تو آپ ﷺ نے اپنی ازواج کے پاس (کسی سے) کھانا مانگنے کے لیے پیغام بھیجا، لیکن کسی کے پاس بھی کچھ نہ ملا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل اور رحمت کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ اس کا مالک تیرے سوا کوئی نہیں۔“ اتنے میں آپ ﷺ کو ایک بھنی ہوئی بکری بطور ہدیہ پیش کی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ کے فضل میں سے ہے، اور ہم (ابھی تک اس کی) رحمت کے منتظر ہیں۔“