المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ ثَلَاثًا، قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «الْوَلَايَةُ فِي اللهِ، وَالْحُبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ»
قَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «إِذا عَرَفُوا دِينَهُمْ أَحْسَنُهُمْ عَمَلًا»
ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، هَلْ تَدْرِي أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «إِذَا اخْتَلَفُوا - وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ - أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ، وَإِنْ كَانَ فِي عَمَلِهِ تَقْصِيرٌ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ زَحْفًا»
ثُمَّ قَالَ: " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقُوا عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، لَمْ يَنْجُ مِنْهَا إِلَّا ثَلَاثُ فِرَقٍ، فِرْقَةٌ أَقَامَتْ فِي الْمُلُوكِ وَالْجَبَابِرَةِ، فَدَعَتْ إِلَى دِينِ عِيسَى، فَأُخِذَتْ فَقُتِلَتْ بِالْمَنَاشِيرِ، وَحُرِّقَتْ بِالنِّيرَانِ، فَصَبَرَتْ حَتَّى لَحِقَتْ بِاللهِ، ثُمَّ قَامَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ تَكُنْ لَهُمْ قُوَّةٌ، وَلَمْ تُطِقِ الْقِيَامَ بِالْقِسْطَ، فَلَحِقَتْ بِالْجِبَالِ، فَتَعَبَّدَتْ وَتَرَهَّبَتْ، وَهُمُ الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللهُ فَقَالَ {وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانَ اللهِ} [الحديد: ٢٧] إِلَى {وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ} [الحديد: ١٦] ، وَفِرْقَةٌ مِنْهُمْ آمَنَتْ، فَهُمُ الَّذِينَ آمَنُوا وَصَدَّقُونِي، وَهُمُ الَّذِينَ رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا، وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ، وَهُمُ الَّذِينَ لَمْ يُؤْمِنُوا بِي وَلَمْ يُصَدِّقُونِي، وَلَمْ يَرْعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا، وَهُمُ الَّذِينَ فَسَّقَهُمُ اللهُ "سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے تین بار عرض کیا: لبیک۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو ایمان کی سب سے مضبوط رسی کون سی ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی خاطر دوستی رکھنا، اللہ کی خاطر محبت کرنا، اور اللہ کی خاطر بغض رکھنا۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں میں سب سے افضل کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ اپنا دین پہچان لیں تو ان میں سب سے اچھے عمل والا۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود! کیا تم جانتے ہو مومنوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب ان کے درمیان اختلاف ہو جائے - اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں - تو ان میں سب سے زیادہ حق کو پہچاننے والا، اگرچہ اپنے عمل میں کمی رکھتا ہو، اور اگرچہ گھسٹتا ہوا چل رہا ہو۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بنی اسرائیل بہتّر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، جن میں سے صرف تین فرقے نجات پا سکے۔ ایک فرقہ بادشاہوں اور جباروں کے درمیان رہا، اور عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف بلاتا رہا، تو اسے پکڑ کر آروں سے چیرا گیا اور آگ میں جلایا گیا، لیکن وہ صبر کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ سے جا ملا۔ پھر ایک اور گروہ کھڑا ہوا جس میں (مقابلے کی) طاقت نہیں تھی، اور وہ انصاف کے ساتھ کھڑا ہونے کی سکت نہیں رکھتے تھے، تو وہ پہاڑوں میں جا بسے، عبادت اور رہبانیت اختیار کر لی، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا: ”اور رہبانیت جو انہوں نے خود ایجاد کی تھی، ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی، سوائے اللہ کی رضا چاہنے کے“ [سورۃ الحدید: 27] سے لے کر ”اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں“ [سورۃ الحدید: 16] تک۔ اور ایک فرقہ ان میں سے ایمان لے آیا، تو یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور مجھے سچا مانا، اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس (رہبانیت) کی پوری رعایت کی، اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان نہ لائے اور مجھے سچا نہ مانا، اور نہ ہی اس کی پوری رعایت کی، اور یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے نافرمان قرار دیا۔“