المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حدیث نمبر: 10282
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَشَلُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ فَقَالَ: «يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ يَسْمَعُونَ؟ قَالَ: «مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمُ الْيَوْمَ لَا يُجِيبُونَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے کنویں والوں کے پاس رک گئے اور فرمایا: ”اے کنویں والو! کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ہے“، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا وہ سنتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس بات کو ان سے زیادہ نہیں سن رہے جو میں کہہ رہا ہوں، لیکن آج وہ جواب نہیں دے سکتے۔“