حدیث نمبر: 10257
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ابْتَعَثَ اللهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِدْخَالِ رَجُلٍ الْجَنَّةَ، فَدَخَلَ كَنِيسَةً، فَإِذَا هُوَ بِيَهُودٍ يَقْرَأُونَ التَّوْرَاةَ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكُوا، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ؟» قَالَ الْمَرِيضُ: إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ فَأَمْسَكُوا، وَجَاءَ الْمَرِيضُ يَحْبُو حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ، فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ فَقَالَ: هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لُوا أَخَاكُمْ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … تو اچانک انہوں نے کچھ یہودیوں کو تورات پڑھتے پایا، جب وہ نبی کریم ﷺ کی صفت پر پہنچے تو رک گئے، اور ان کے کنارے پر ایک بیمار آدمی تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیوں رک گئے؟“ اس بیمار نے کہا: یہ ایک نبی کی صفت پر پہنچے تو رک گئے، تو وہ بیمار گھسٹتے ہوئے آیا یہاں تک کہ تورات پکڑ لی، پھر اسے پڑھنے لگا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کی صفت پر پہنچا تو کہا: یہ تیری اور تیری امت کی صفت ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ تو اللہ کا رسول ہے، پھر وہ فوت ہو گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی (نماز جنازہ) پڑھو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10257
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 153، حدیث 10295