❮
❯
حدیث نمبر: 10248
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ إِذَا دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ إِذْنٌ حَتَّى يَفْرُغَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ صَاحِبِهِ، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «يَا أَبَا يَزِيدَ، لَوْ رَآكَ رَسُولُ اللهِ لَأَحَبَّكَ، وَمَا رَأَيْتُكَ إِلَّا ذَكَرْتُ الْمُخْبِتِينَ»
ترجمہ

ابوعبیدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ربیع بن خثیم رحمہ اللہ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو (کسی اور کو) اندر آنے کی اجازت نہ ملتی یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے سے فارغ ہو جاتے۔ راوی کہتے ہیں: اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابویزید! اگر رسول اللہ ﷺ تمہیں دیکھتے تو تم سے محبت کرتے، اور میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں تو مجھے عاجزی اختیار کرنے والوں کی یاد آ جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10248
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 151، حدیث 10286