المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب من روى عن ابن مسعود أنه لم يكن مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجن باب: جس نے روایت کیا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہیں تھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ؛ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي، وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي، وَخَيْرًا لِي فِيمَا أَبْتَغِي بِهِ الْخَيْرَ، فَخِرْ لِي فِي عَافِيَةٍ وَيَسِّرْهُ، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا لِي فَاقْدِرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی معاملے میں استخارہ کرنا چاہتے جسے کرنے کا ارادہ رکھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے تجھ سے قدرت مانگتا ہوں، اور تیرے فضل سے تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ کام میرے دین، میری معیشت اور میرے انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرما اور آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور اگر یہ میرے لیے اس کے خلاف بہتر ہے تو جو بھی خیر ہو وہ میرے لیے مقدر فرما، جہاں کہیں بھی ہو۔“