❮
❯
حدیث نمبر: 10004
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَمَضَ عَيْنَيْهِ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبًا وَضَمَّهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَظُنُّهَا امْرَأَتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْسَبُهَا غَيْرَى؟ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْغَيْرَةَ عَلَى النِّسَاءِ، وَالْجِهَادَ عَلَى الرِّجَالِ، فَمَنْ صَبَرَ مِنْهُنَّ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِ الشُّهَدَاءِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک برہنہ عورت آ گئی، تو یہ منظر نبی کریم ﷺ پر گراں گزرا اور آپ ﷺ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، تو لوگوں میں سے ایک شخص اس (عورت) کی طرف بڑھا اور اس پر کپڑا ڈال کر اسے اپنے ساتھ لپیٹ لیا، تو آپ ﷺ کے بعض صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا خیال ہے کہ یہ اس کی بیوی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا گمان ہے کہ یہ (سوکن پر) غیرت (رشک) میں مبتلا ہے؟ بے شک اللہ عزوجل نے عورتوں پر غیرت اور مردوں پر جہاد لکھ دیا ہے، تو ان میں سے جو عورت ایمان اور ثواب کی نیت سے صبر کرے اسے شہیدوں کے برابر اجر ملے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10004
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 87، حدیث 10040