حدیث نمبر: 32
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَظِلِّ بْنِ حُصَيْنٍ ، سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَيْنَا ، يَقُولُ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَدَعَانِي ، فَقَالَ : لا أَقْبَلُ مِنْكَ حَتَّى تُبَايِعَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ "، فَبَايَعْتُهُ ، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْمُسْتَظِلِّ ، إِلا شَبِيبٌ ، وَلا عَنْهُ إِلا إِسْرَائِيلُ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ جو ہم پر امیر تھے وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، پھر میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”جب تک تم ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر مجھ سے بیعت نہ کرو گے، میں تم سے بیعت نہیں کرتا۔“ تو میں نے آپ سے بیعت کر لی۔