حدیث نمبر: 6288
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟» قَالُوا: فالنبيون قَالَ: «ومالهم لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟» قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ: «ومالكم لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
الشیخ عبدالستار الحماد
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے نزدیک کس مخلوق کا ایمان زیادہ اچھا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: فرشتوں کا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’انہیں کیا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں جبکہ وہ اپنے رب کے پاس ہیں۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: پھر انبیا ؑ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’انہیں کیا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں حالانکہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا، پھر ہم، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں کیا ہے کہ ایمان نہ لاؤ جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک ان لوگوں کا ایمان سب سے اچھا ہے جو میرے بعد ہوں گے، وہ صحیفے پائیں گے ان میں ایک کتاب ہو گی وہ اس کی ہر چیز پر ایمان لائیں گے۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ۔