کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 6266
عَن عمر بن الْخطاب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ: أُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُولُ: إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: أُويس وَله والدةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاض فَمُرُوهُ فليستغفر لكم . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’یمن سے اویس نامی شخص تمہارے پاس آئے گا، وہ یمن میں صرف اپنی والدہ کو چھوڑ آئے گا، اسے برص تھا، اس نے اللہ سے دعا کی تو اس نے دینار یا درہم کے برابر جگہ کے علاوہ اس مرض کو ختم کر دیا، جو شخص اس سے ملاقات کرے تو وہ تمہارے لیے اس سے دعائے مغفرت کی درخواست کرے۔ ‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے، فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’تابعین میں سے سب سے بہتر شخص اویس ہے، اس کی والدہ ہے، اسے برص کا مرض تھا، تم اس سے درخواست کرنا کہ وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کرے۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب المناقب / حدیث: 6266
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (223 / 2542)»