کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ثنیۃ المرار پر چڑھنے والوں کو بخشش کی بشارت
حدیث نمبر: 6229
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَصْعَدِ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسرائيل» . وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ» . فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْ��َ» فِي «بَابٍ» بعدَ فَضَائِل الْقُرْآن
الشیخ عبدالستار الحماد
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ثنیۃ المرار کی چوٹی پر چڑھے گا تو اس کے گناہ اس طرح ختم کر دیے جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ ختم کر دیے گئے تھے۔ ‘‘ بنو خزرج کا دستہ سب سے پہلے اس پر چڑھا، پھر باقی لوگ متواتر پہنچتے رہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس سرخ اونٹ والے کے سوا تم سب کی مغفرت ہو گئی۔ ‘‘ ہم اس شخص کے پاس آئے تو ہم نے کہا: آؤ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہارے لیے مغفرت طلب کریں، اس نے کہا: اگر میں اپنا گم شدہ اونٹ پا لوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمہارا ساتھی میرے لیے مغفرت طلب کرے۔ رواہ مسلم۔ اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ’’اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں۔ ‘‘ باب فضائل القرآن کے بعد ذکر کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب المناقب / حدیث: 6229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (12/ 2880) ¤حديث أنس لأبي بن کعب رضي الله عنھما تقدم (2196)»