حدیث نمبر: 6103
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كلَّ مُؤمن ومؤمنة. رَوَاهُ أَحْمد
الشیخ عبدالستار الحماد
براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب غدیر خم پر پڑاؤ ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ میرا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور ہے، پھر فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ میرا ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں! ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اللہ! میں جس شخص کا دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں، اے اللہ! جو شخص اس کو دوست بنائے تو اسے دوست بنا، اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو انہیں دشمن بنا۔ ‘‘ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ علی سے ملے تو انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو آپ صبح و شام (ہر وقت) ہر مومن اور ہر مومنہ کے دوست بن گئے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔