کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک ناتمام آرزو
حدیث نمبر: 6030
وَعَن عُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ وَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالًا فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا. قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقُلْتُ: مِثْلَهُ. وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ. فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ؟ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» . فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قُلْتُ: لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا، اس وقت میرے پاس مال بھی تھا، میں نے (دل میں) کہا: اگر ہو سکا تو میں آج ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جاؤں گا، وہ بیان کرتے ہیں، میں اپنا نصف مال لے کر حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: اتنا ہی (یعنی نصف) ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا اثاثہ لے کر حاضر ہو گئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول (کی رضا) چھوڑ کر آیا ہوں، میں (عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا: میں کسی چیز میں ان سے کبھی بھی سبقت حاصل نہیں کر سکتا۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب المناقب / حدیث: 6030
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3675 و قال: حسن صحيح) و أبو داود (1678)»