کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: خیر القرون
حدیث نمبر: 6010
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذُرُونَ وَلَا يفون وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَيَحْلِفُونَ وَلَا يستحلفون» . مُتَّفق عَلَيْهِ
الشیخ عبدالستار الحماد
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دیں گے، وہ خیانت کریں گے، اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا، وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے، اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا۔ ‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے: ’’وہ حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائیں گے۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب المناقب / حدیث: 6010
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3650) و مسلم (214 / 2535 و الرواية الثانية 215/ 2535)»