کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: آدم علیہ السلام کا وجود بنایا گیا تو فرشتوں نے کہا: ۔ ۔ ۔
حدیث نمبر: 5732
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَذُرِّيَّتَهُ قَالَتِ: الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ خَلَقْتَهُمْ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَنْكِحُونَ وَيَرْكَبُونَ فَاجْعَلْ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةَ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَا أَجْعَلُ مَنْ خَلَقْتُهُ بيديَّ ونفخت فِيهِ مِنْ رُوحِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ: كُنْ فَكَانَ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ
الشیخ عبدالستار الحماد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ اور اس کی اولاد کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا، رب جی! تو نے انہیں پیدا فرمایا ہے، وہ کھاتے پیتے، شادیاں کرتے اور سواری کرتے ہیں، اور تو ان کے لیے دنیا مقرر کر دے اور ہمارے لیے آخرت مقرر فرما دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس (مخلوق) کو، جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی، اسے میں اس مخلوق کے برابر نہیں کروں گا جسے میں نے کہا بن جا اور وہ بن گئی۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق / حدیث: 5732
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (149، نسخة محققة: 147) ¤٭ ھشام بن عمار اختلط و الأنصاري لم أعرفه وجاء تصريحه في رواية جنيد بن حکيم و لا يدري من ھو؟ و عبد ربه بن صالح القرشي و ثقه ابن حبان وحده فھو مجھول الحال .»