حدیث نمبر: 5725
وَالْبَعْض يُحسنهُ) عَن أبي رزين قَالَ: قلت: يَا رَسُول الله أَيْن رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: «كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: الْعَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَه شَيْء
الشیخ عبدالستار الحماد
ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! جب رب تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس سے پہلے وہ کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ابر میں، اس کے نیچے ہوا تھی اور اس کے اوپر ہوا تھی، اور اس نے اپنا عرش پانی پر تخلیق فرمایا۔ ‘‘ ترمذی، اور فرمایا: یزید بن ہارون نے کہا: عماء سے مراد ہے اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں تھی۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔