حدیث نمبر: 5653
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَحَدَّثُ-وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ-: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ. فَقَالَ لَهُ: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: دُونَكَ يَا ابْن آدم فَإِنَّهُ يُشْبِعُكَ شَيْءٌ . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ فَضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بات کر رہے تھے، اس وقت آپ کے پاس ایک اعرابی تھا کہ جنت والوں میں سے ایک آدمی نے اپنے رب سے کاشتکاری کے متعلق اجازت طلب کی تو اس نے اس سے فرمایا: کیا تجھے من پسند چیزیں میسر نہیں؟ اس نے عرض کیا، کیوں نہیں، میسر ہیں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں کاشتکاری کروں، اس نے بیج گرایا تو پل بھر میں وہ اگ آیا، برابر ہو گیا اور کٹ بھی گیا، اور وہ (غلے کے ڈھیر) پہاڑوں کی طرح تھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ابن آدم! اسے لے لو، کیونکہ کوئی چیز تیرا پیٹ نہیں بھر سکتی۔ ‘‘ اس اعرابی نے عرض کیا، اللہ کی قسم! وہ قریشی یا انصاری ہو گا کیونکہ وہ کاشتکار ہیں، اور رہے ہم، تو ہم کاشتکار نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دیے۔ رواہ البخاری۔