کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جنتی دوزخیوں کی شفاعت کریں گے
حدیث نمبر: 5604
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُصَفُّ أَهْلَ النَّارِ فَيَمُرُّ بِهِمُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي؟ أَنَا الَّذِي سَقَيْتُكَ شَرْبَةً. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنَا الَّذِي وَهَبْتُ لَكَ وَضُوءًا فَيَشْفَعُ لَهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
الشیخ عبدالستار الحماد
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جہنمیوں کی صف بنائی جائے گی تو جنت والوں میں سے آدمی ان کے پاس سے گزرے گا تو ان میں سے ایک آدمی کہے گا: اے فلاں! کیا تم مجھے پہچانتے نہیں؟ میں وہی ہوں جس نے ایک مرتبہ تجھے پانی پلایا تھا، اور ان میں سے کوئی کہے گا: میں وہی ہوں جس نے وضو کے لیے پانی دیا تھا، وہ اس کے لیے سفارش کرے گا تو وہ اسے جنت میں (اپنے ساتھ) داخل کرائے گا۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق / حدیث: 5604
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضَعِيفٌ , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3685) ¤٭ يزيد الرقاشي: ضعيف، و الأعمش مدلس و عنعن.»