کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: حوض کوثر پر میرے پاس آؤ گے تو میں پہچان لوں گا
حدیث نمبر: 5568
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ لَكُمْ سِيمَاءُ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الْأُمَم تردون عليّ غرّاً من أثر الْوضُوء» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’میرا حوض ایلہ اور عدن کے درمیانی مسافت سے زیادہ مسافت والا ہے۔ وہ برف سے زیادہ سفید، اور وہ شہد ملے دودھ سے زیادہ شیریں و لذیذ ہے، اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، اور میں (دوسرے) لوگوں کو اس سے اس طرح دور ہٹاؤں گا جس طرح آدمی لوگوں کے اونٹوں کو اپنے حوض سے دور ہٹاتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ اس روز ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، تمہارے لیے ایک خاص نشان ہو گا جو کسی اور امت کے لیے نہیں ہو گا۔ تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ وضو کے نشان کی وجہ سے تمہاری پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق / حدیث: 5568
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (36/ 247)»