کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جد الانبیاء ابراہیم علیہ السلام کی سفارش بھی رد کر دی جائے گی
حدیث نمبر: 5538
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ: لَا تَعْصِنِي؟ فَيَقُولُ لَهُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ. فَيَقُول إِبراهيم: يَا رب إِنَّك وَعَدتنِي أَلا تخزني يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ ثُمَّ يُقَالُ لِإِبْرَاهِيمَ: مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ فَيُؤْخَذُ بقوائمه فَيُلْقى فِي النَّار . رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ابراہیم ؑ روزِ قیامت اپنے والد آزر سے ملیں گے تو آزر کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہو گا، ابراہیم ؑ اسے فرمائیں گے: کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میری مخالفت نہ کرو، ان کا والد ان سے کہے گا: آج میں تمہاری مخالفت و نافرمانی نہیں کرتا، ابراہیم ؑ عرض کریں گے: رب جی! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو روزِ قیامت مجھے رسوا نہیں کرے گا؟ اس سے زیادہ رسوائی کیا ہے کہ میرا والد (تیری رحمت سے) سب سے زیادہ دور ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے، پھر ابراہیم ؑ سے کہا جائے گا: تمہارے قدموں تلے کیا ہے؟ وہ دیکھیں گے تو وہاں (آزر کی بجائے) ایک گھنے بالوں والا بجو ہو گا، جو اپنی غلاظت کے ساتھ لت پت ہو گا، اس کو اس کے پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق / حدیث: 5538
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3350)»