کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: قیامت کے دن کی کچھ باتیں یہودی عالم کی زبانی
حدیث نمبر: 5524
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ وَسَائِرَ الْخَلْقِ علىأصبع ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا اللَّهُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ. ثُمَّ قَرَأَ: (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يشركُونَ) مُتَّفق عَلَيْهِ
الشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک یہودی عالم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: محمد! روزِ قیامت اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، زمینوں کو ایک انگلی پر، پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر، پانی و مٹی کو ایک انگلی پر، اور باقی ساری مخلوق کو ایک انگلی پر روک لے گا، پھر انہیں بلائے گا اور فرمائے گا، میں بادشاہ ہوں، میں اللہ ہوں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس دیے، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا، اور روزِ قیامت تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، پاک ہے وہ ذات اور بلند ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق / حدیث: 5524
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4811) و مسلم (19/ 2786)»