کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: کیا ابن صیاد ہی دجال ہے
حدیث نمبر: 5500
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ الصَّيَّادِ الدَّجَّالُ. قُلْتُ: تَحْلِفُ بِاللَّهِ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
الشیخ عبدالستار الحماد
محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا کہ ابن صیاد دجال ہے، میں نے کہا: آپ اللہ کی قسم اٹھاتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس قسم اٹھاتے ہوئے سنا، لیکن نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر ناگواری نہیں فرمائی۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الفتن / حدیث: 5500
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7355) و مسلم (94/ 2929)»