کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: دجال کے وقت دِلوں کی کیفیت کیا ہو گی
حدیث نمبر: 5486
وَعَن أَي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدجالَ قومَه وإِني أُنذركموه» فرصفه لَنَا قَالَ: «لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مِثْلُهَا» يَعْنِي الْيَوْمَ «أوخير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’نوح ؑ کے بعد ہر نبی ؑ نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے، اور میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ ‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کا تعارف کرایا، فرمایا: ’’عنقریب کوئی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہے، اسے پا لے گا۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اس وقت ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جیسے آج ہیں یا (اس سے) بہتر۔ ‘‘ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الفتن / حدیث: 5486
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (2234 وقال: غريب) و أبو داود (4756)»