کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: قنطورہ کی اولاد اہل بصرہ سے جنگ کے لئے آئے گی
حدیث نمبر: 5432
وَعَن أبي بكرَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَنْزِلُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي بِغَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ عِنْدَ نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: دِجْلَةُ يَكُونُ عَلَيْهِ جِسْرٌ يَكْثُرُ أَهْلُهَا وَيَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ وَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَطِّ النَّهْرِ فَيَتَفَرَّقُ أَهْلُهَا ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ فِي أَذْنَابِ الْبَقَرِ وَالْبَرِّيَّةِ وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’میری امت کے کچھ لوگ نہر کے پاس ہموار نشیبی زمین پر پڑاؤ ڈالیں گے جسے وہ بصرہ کے نام سے موسوم کریں گے، اور اس نہر کو دجلہ کے نام سے یاد کیا جائے گا، اس پر ایک پل ہو گا، اسکے رہنے والے بہت ہوں گے، اور وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا، اور جب آخری دور ہو گا تو بنو قنطورا آئیں گے، جو چوڑے چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے، حتیٰ کہ وہ نہر کے کنارے پڑاؤ ڈالیں گے اور وہ (بصرہ والے) تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے، ایک گروہ گائے کی دُمیں پکڑ لے گا اور وہ جنگلوں میں (کھیتی باڑی کریں) گے، اور وہ ہلاک ہو جائیں گے، ایک گروہ اپنی جانوں کے لیے امان حاصل کر لیں گے اور وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنی پشت کے پیچھے کر لیں گے اور وہ ان سے قتال کریں گے اور یہی شہداء ہیں۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الفتن / حدیث: 5432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: إِسْنَاده جيد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4306)»