کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: دنیا کے طلب گار کی حالت
حدیث نمبر: 5320
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الْآخِرَةِ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَشَتَّتَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَلَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلاَّ مَا كُتِبَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَحْمد
الشیخ عبدالستار الحماد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کی نیت طلب آخرت ہو تو اللہ اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے، اور اس کے معاملے کو مجتمع فرما دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس چلی آتی ہے، اور جس شخص کی نیت طلب دنیا ہو تو اللہ اس کی پیشانی پر فقر ثبت فرما دیتا ہے، اس کے معاملے کو منتشر کر دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اللہ نے اس کے لیے لکھ دی ہے۔ ‘‘ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الرقاق / حدیث: 5320
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2465 وقال: حسن غريب) و أحمد (5/ 183 ح 21925) و للحديث الآتي يغني عنه) ¤٭ يزيد بن أبان الرقاشي زاھد ضعيف .»