کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: توکل کیسا ہونا چاہیے ؟
حدیث نمبر: 5299
عَن عمر بن الْخطاب قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
الشیخ عبدالستار الحماد
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق فراہم کرے جس طرح وہ پرندوں کو رزق فراہم کرتا ہے، وہ صبح کے وقت بھوکے نکلتے ہیں اور شام کے وقت شکم سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔ ‘‘ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الرقاق / حدیث: 5299
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (2344 وقال: حسن صحيح) و ابن ماجه (4164)»