کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: عقل مند کون اور بے وقوف کون ؟
حدیث نمبر: 5286
وَعَن عبيد بن خَالِد أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا ثُمَّ مَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا فَصَلَّوْا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قُلْتُمْ؟» قَالُوا: دَعَوْنَا اللَّهَ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ وَيُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟» أَوْ قَالَ: «صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ لِمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا، پھر دوسرا اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد فوت ہو گیا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اس کے لیے کیا دعا کی؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، ہم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس کی مغفرت فرمائے، اس پر رحم فرمائے اور اسے اس کے ساتھی سے ملائے۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس کی وہ نمازیں جو اس نے اس کی نمازوں کے بعد پڑھیں وہ کہاں گئیں؟ اور اس نے اس کے بعد جو عمل کیے وہ کہاں گئے؟‘‘ یا فرمایا: ’’اس نے اس کے بعد جو روزے رکھے تو وہ کہاں گئے؟‘‘ ان دونوں کے مابین تو زمین و آسمان کے مابین فاصلے سے زیادہ فاصلہ ہے۔ ‘‘ حسن، رواہ ابوداؤد و النسائی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الرقاق / حدیث: 5286
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (2524) و النسائي (4/ 74 ح 1987)»