کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: دنیا عمل کا گھر ہے
حدیث نمبر: 5215
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ارْتَحَلَتِ الدُّنْيَا مُدْبِرَةً وَارْتَحَلَتِ الْآخِرَةُ مُقْبِلَةً وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ وَلَا حِسَابَ وَغَدًا حِسَابٌ وَلَا عَمَلَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: دنیا گزر رہی ہے جبکہ آخرت آ رہی ہے، اور دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں، تم آخرت کے طلبگار بنو اور دنیا کے طلبگار نہ بنو کیونکہ آج عمل (کا وقت) ہے اور حساب نہیں جبکہ کل حساب ہو گا اور عمل نہیں ہو گا۔ ‘‘ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الرقاق / حدیث: 5215
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: رواه البخاري في الرقاق (باب: 4 قبل ح 6417)
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري في الرقاق (باب: 4 قبل ح 6417) وانظر تغليق التعليق (5/ 158، 159)»