کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: دنیاوی مال و متاع کی وجہ سے صحابہ رسول کی بے قراری
حدیث نمبر: 5203
وَعَن مُعَاوِيَة أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عتبَة يعودهُ فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا خَالِ؟ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا؟ قَالَ: كلا ولكنَّ رَسُول الله عهد إِلينا عَهْدًا لَمْ آخُذْ بِهِ. قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . وَإِنِّي أَرَانِي قَدْ جَمَعْتُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه
الشیخ عبدالستار الحماد
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے تو ابوہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے، انہوں نے پوچھا: ماموں جان! کون سی چیز آپ کو رلا رہی ہے، کیا کوئی تکلیف تمہیں اضطراب میں ڈال رہی ہے یا دنیا کی حرص؟ انہوں نے کہا، ہرگز نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں وصیت فرمائی تھی لیکن میں نے اس پر عمل نہ کیا، انہوں نے فرمایا: وہ (وصیت) کیا تھی؟ انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’تمہارے لیے اتنا مال جمع کرنا ہی کافی ہے کہ ایک خادم ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے ایک سواری ہو۔ ‘‘ اور میں خیال کرتا ہوں کہ میں (مال) جمع کر چکا ہوں۔ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الرقاق / حدیث: 5203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، تقدم طرفه (5185) و رواه أحمد (3/ 444 ح 15749) و الترمذي (2327 وسنده ضعيف) و النسائي (218/8. 219 ح 5374) و ابن ماجه (4103 وسنده ضعيف) ¤٭ أبو وائل رواه عن سمرة بن سھم وھو رجل مجھول (انظر ح 5185)»