کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: فلاح پانے والوں کے اوصاف
حدیث نمبر: 5200
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ اللَّهُ قلبَه للإِيمان وجعلَ قلبَه سليما ولسانَه صَادِقا وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقَمِعٌ وَأَمَّا الْعَيْنُ فَمُقِرَّةٌ لِمَا يُوعَى الْقَلْبُ وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس شخص نے فلاح پائی جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے خالص کر دیا، اس کے دل کو (حسد و بغض وغیرہ سے) سلامت رکھا، اس کی زبان کو راست گو بنایا، اس کے نفس کو مطمئن بنایا، اس کی طبیعت کو مستقیم بنایا، اس کے کانوں کو غور سے (حق) سننے والا اور اس کی آنکھ کو (دلائل) دیکھنے والا بنایا، کان اس چیز کے لیے جسے دل محفوظ رکھتا ہے، قیف ہیں اور آنکھ محل قرار و ثبات ہے، اور اس شخص نے فلاح پائی جس نے اپنے دل کو محافظ بنایا۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الرقاق / حدیث: 5200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (5/ 147 ح 21635) و البيھقي في شعب الإيمان (108، نسخة محققة: 107) ¤٭ خالد بن معدان عن أبي ذر رضي الله عنه: منقطع .»