کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 4614
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ يَكَدْ يَكْذِبُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَمَا كَانَ مِنَ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَكْذِبُ» . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: وَأَنَا أَقُولُ: الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: حَدِيثُ النَّفْسِ وَتَخْوِيفُ الشَّيْطَانِ وَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ: وَكَانَ يُكْرَهُ الْغُلُّ فِي النَّوْمِ وَيُعْجِبُهُمُ الْقَيْدُ وَيُقَال: الْقَيْد ثبات فِي الدّين
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب (قیامت کا) زمانہ قریب آ جائے گا تو قریب نہیں کہ مومن کا خواب جھوٹا ہو گا، مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے، اور جو چیز نبوت سے ہو وہ جھوٹی نہیں ہوتی۔ ‘‘ متفق علیہ۔ محمد بن سرین بیان کرتے ہیں، میں کہتا ہوں: خواب تین قسم کے ہیں: نفسیاتی خیال، شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے بشارت۔ لہذا جو شخص کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے، اور کھڑا ہو کر نماز پڑھے۔ انہوں نے فرمایا: وہ خواب میں طوق دیکھنے کو ناپسند کرتے تھے اور پاؤں میں بیڑیاں انہیں پسند تھیں، اور کہا جاتا ہے کہ بیڑیوں سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الرؤيا / حدیث: 4614
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7017) و مسلم (2263/6)»