کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: کبھی ننگے پاؤں بھی چلنا چاہیے
حدیث نمبر: 4449
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الإِرفاه قَالَ: مَالِي لَا أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نحتفي أَحْيَانًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن بریدہ ؒ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے فضالہ بن عبید سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کے بال بکھرے ہوئے دیکھتا ہوں؟ انہوں نے کہا، کیونکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ ناز و نعمت سے ہمیں منع کیا کرتے تھے، اس شخص نے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو ننگے پاؤں دیکھتا ہوں؟ انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہم کبھی کبھار ننگے پاؤں چلا کریں۔ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب اللباس / حدیث: 4449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (4160) ¤٭ سعيد بن إياس الجريري اختلط و لم يثبت تحديثه به قبل اختلاطه و حديث النسائي (185/8 ح 5241) يغني عنه .»