کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: عورتوں کے لیے سونے کے زیورات
حدیث نمبر: 4399
وَعَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأنْصَارِيّ كانتْ عندَ عائشةَ إِذْ دُخِلَتْ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ وَعَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ فَقَالَتْ: لَا تُدْخِلُنَّهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تُقَطِّعُنَّ جَلَاجِلَهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ أَجْرَاس» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
عبدالرحمٰن بن حیان انصاری رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی بنانہ، عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھی، اچانک کوئی بچی ان کے پاس لائی گئی اس نے گھنگھرو پہن رکھے تھے جن سے آواز آ رہی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے میرے پاس اس وقت تک مت آنے دینا جب تک تم اس کے گھنگھرو نہیں کاٹ دیتے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جس گھر میں گھنٹی ہو اس میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ ‘‘ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب اللباس / حدیث: 4399
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (4231) ¤٭ في السند بنانة لا تعرف و ابن جريج مدلس و عنعن .»