کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: برائی کا بدلہ اچھائی سے
حدیث نمبر: 4248
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يُقِرْنِي وَلَمْ يُضِفْنِي ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ أَأَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ: «بل اقره» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابواحوص جشمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں کہ اگر میں کسی شخص کے پاس سے گزروں تو وہ میری ضیافت نہ کرے لیکن اس کے بعد وہ میرے پاس سے گزرے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو بدلہ دوں (کہ ضیافت نہ کروں)؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’بلکہ ضیافت کرو۔ ‘‘ صحیح، رواہ الترمذی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الأطعمة / حدیث: 4248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2006 وقال: حسن صحيح)»