کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: مہمان کا حق میزبان پر
حدیث نمبر: 4245
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّك تبعثنا فتنزل بِقَوْمٍ لَا يُقْرُونَنَا فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَانْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حق الضَّيْف الَّذِي يَنْبَغِي لَهُم»
الشیخ عبدالستار الحماد
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا، آپ ہمیں بھیجتے ہیں، اور ہم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے اس بارے میں جناب کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالو اور وہ مہمان نوازی کے مطابق تمہاری مہمان نوازی کریں تو اسے قبول کرو اور اگر وہ مہمان نوازی نہ کریں تو پھر مہمان نوازی کا جو حق ہے وہ ان سے وصول کر سکتے ہو۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الأطعمة / حدیث: 4245
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2461) و مسلم (1727/17)»