کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: گھی کی چوری کی خواہش
حدیث نمبر: 4229
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبزةً بيضاءَ منْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ فَقَالَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟» قَالَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ قَالَ: «ارْفَعْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيث مُنكر
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس گندم کے سفید آٹے کی روٹی ہو جو گھی اور دودھ سے گوندھ کر تیار کی گئی ہو‘‘ صحابہ میں سے ایک آدمی اٹھا اور وہ اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لے آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’یہ (گھی) کس چیز میں تھا؟‘‘ اس نے عرض کیا: سانڈھے کی جلد سے بنے ہوئے برتن میں تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اسے لے جاؤ۔ ‘‘ ابوداؤد، ابن ماجہ، اور ابوداؤد نے فرمایا: یہ حدیث منکر ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الأطعمة / حدیث: 4229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3818) و ابن ماجه (3341) ¤٭ فيه أيوب: ينظر فيه و لعله ابن خوط کما في النکت الظراف (75/9) و ھو متروک .»