حدیث نمبر: 4224
وَعَن سعدٍ قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيِيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي وَقَالَ: «إِنَّكَ رجلٌ مفْؤودٌ ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رجل يتطبب فليأخذ سبع تمرات منم عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں شدید بیمار ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا جس سے میں نے اپنے دل پر اس کی ٹھنڈک محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم تو دل کے مریض ہو، تم حارث بن کلدہ ثقفی کے پاس جاؤ کیونکہ وہ طبیب آدمی ہے۔ وہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں لے کر انہیں گھٹلیوں سمیت کوٹ ڈالے، پھر وہ تجھے کھلا دے۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔