کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر چھنا ہوا آٹا کھایا
حدیث نمبر: 4171
وَعَن سهل بن سعد قَالَ: مَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَقَالَ: مَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِين ابتعثهُ الله حَتَّى قبضَهُ قِيلَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِي ثريناه فأكلناه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، جب سے اللہ نے انہیں مبعوث فرمایا زندگی بھر نہ میدہ کی روٹی دیکھی اور نہ چھلنی، ان سے دریافت کیا گیا، تم پھر بِن چھنے جَو کیسے کھاتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم اس کا آٹا بناتے اور پھونک مارتے جو چیز اڑنی ہوتی وہ اڑ جاتی، اور جو باقی رہ جاتا ہم اسے گھوندھ کر روٹی بناتے اور اسے کھا لیتے تھے۔ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الأطعمة / حدیث: 4171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5413)»