کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: شکاری کتوں اور تیر سے شکار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4065
وَعَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ قَالَ: «كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ» قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَتَلْنَ» قُلْتُ: إِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ. قَالَ: «كُلُّ مَا خزق وَمَا أصَاب بعرضه فَقتله فَإِنَّهُ وقيذ فَلَا تَأْكُل»
الشیخ عبدالستار الحماد
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ہم (شکار کے لیے) سدھائے ہوئے کتے چھوڑتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس نے جو تمہارے لیے پکڑا ہے کھا لیں۔ ‘‘ میں نے عرض کیا، اگر وہ مار ڈالیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اگرچہ وہ مار ڈالیں۔ ‘‘ میں نے عرض کیا: ہم معراض (پروں کے بغیر تیر) پھینکتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اگر وہ نوک کی طرف سے شکار میں گھس جائے تو کھا لیں اور اگر اسے چوڑائی والے حصے کی طرف سے لگے اور وہ قتل ہو جائے تو اسے مت کھائیں، کیونکہ وہ چوٹ لگنے سے مرا ہے۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 4065
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5477) و مسلم (1/ 1929)»