کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: تہمت کی بنا پر قید کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3784
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ ونِعْمَ الوكيلُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا تو آپ نے جس شخص کے خلاف فیصلہ فرمایا جب وہ واپس جانے لگا تو اس نے کہا: ’’میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ ‘‘ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ عجز و نادانی پر ملامت فرماتا ہے، بلکہ تمہیں احتیاط کرنی چاہیے، جب کوشش کے باوجود کوئی خلاف توقع واقعہ غالب آ جائے تو تم کہو: ’’میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإمارة والقضاء / حدیث: 3784
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (3627) ¤٭ رواية بقية عن بحير محمولة علي السماع .»