کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: دوسرے کا حق آگ کا ٹکڑا ہے
حدیث نمبر: 3761
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِي لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذَنَّهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّار»
الشیخ عبدالستار الحماد
ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’میں بھی ایک انسان ہوں، تم اپنے مقدمات میرے پاس لاتے ہو۔ اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی دلیل دوسرے کی نسبت زیادہ فصاحت کے ساتھ پیش کر لے اور میں جو اس سے سنوں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، جس شخص کو اس کے (مسلمان) بھائی کے حق میں سے کوئی چیز دے دی جائے تو وہ اسے حاصل نہ کرے، (گویا اس طرح) میں اسے (جہنم کی) آگ کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإمارة والقضاء / حدیث: 3761
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6967) و مسلم (1713/4)»