کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: شراب خانہ خراب
حدیث نمبر: 3639
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوَ مُسْكِرٌ هُوَ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یمن سے ایک آدمی آیا تو اس نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے، اپنے ملک میں جوار سے تیار ہونے والی مزر نامی پی جانے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کیا وہ نشہ آور ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ بے شک یہ بات اللہ کے ذمہ ہے کہ جو شخص نشہ آور چیز پیئے گا تو اللہ اسے ((طینۃ الخبال)) پلائے گا۔ ‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ((طینۃ الخبال)) کیا چیز ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جہنمیوں کا پسینہ یا جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والا خون اور پیپ۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الحدود / حدیث: 3639
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2002/72)»