حدیث نمبر: 3386
عَن الغريف بن عَيَّاش الديلمي قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَة بن الْأَسْقَع فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ فَقُلْنَا: إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ يَعْنِي النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ: «أعتقوا عَنهُ بِعِتْق الله بِكُل عُضْو مِنْهُ عُضْو أَمنه من النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
غریف بن عیاش دیلمی بیان کرتے ہیں، ہم واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ہم نے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو، وہ (اس بات سے) ناراض ہو گئے اور کہا: تم قرآن کی تلاوت کرتے ہو، جبکہ اس کا مصحف اس کے گھر میں موجود ہوتا ہے اس کے باوجود وہ کمی بیشی کر لیتا ہے، ہم نے کہا: ہم نے تو صرف ایسی حدیث کا ارادہ کیا تھا جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: ہم اپنے ایک ساتھی کے بارے میں، جس نے قتل کی وجہ سے جہنم کو واجب کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و النسائی۔