کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: عورت اپنے شوہر کے مال سے کس حد تک خرچ کر سکتی ہے ؟
حدیث نمبر: 3342
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ هندا بنت عتبَة قَالَت: يَا رَسُول الله إِن أَبَا سُفْيَان رجل شحيح وَلَيْسَ يعطيني مَا يَكْفِينِي وَوَلَدي إِلَّا مَا أخذت مِنْهُ وَهُوَ يعلم فَقَالَ: «خذي مَا يَكْفِيك وولدك بِالْمَعْرُوفِ»
الشیخ عبدالستار الحماد
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، ہند بن عتبہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ابوسفیان ایک بخیل آدمی ہے، وہ مجھے اس قدر نہیں دیتا جو میرے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو، مگر میں اس سے اس طرح لے لیتی ہوں کہ اسے پتہ نہیں ہوتا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس قدر لے لیا کرو جو دستور کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب النكاح / حدیث: 3342
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5364) و مسلم (1714/7)»