کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ایک حاملہ لونڈی کا معاملہ
حدیث نمبر: 3337
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ فَسَأَلَ عَنْهَا فَقَالُوا: أَمَةٌ لِفُلَانٍ قَالَ: «أَيُلِمُّ بِهَا؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يحلُّ لَهُ؟» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو بچہ جننے کے قریب تھی تو آپ نے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ فلاں شخص کی لونڈی ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے، وہ اس سے کیسے خدمت کا تقاضا کر سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، یا وہ اسے کیسے وارث بنا سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب النكاح / حدیث: 3337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1441/139)»