کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: تین یا اس سے زیادہ طلاق دینا یعنی قرآن کا مذاق اڑانا
حدیث نمبر: 3293
وَعَن مَالك بلغه رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَى عَلَيَّ؟ فَقَالَ ابْن عَبَّاس: طلقت مِنْك ثَلَاث وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
الشیخ عبدالستار الحماد
امام مالک ؒ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اسے تیری طرف سے تین طلاقیں تو واقع ہو گئیں، جبکہ ستانوے کے ذریعے تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا۔ حسن، رواہ مالک۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب النكاح / حدیث: 3293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه مالک (550/2 ح 1195) ¤٭ سنده ضعيف و له شواھد عند البيھقي (337/7) و أبي داود (2197) وغيرهما .»