کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ایک مجلس کی تین طلاقوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت ناراض ہونا
حدیث نمبر: 3292
حَدِيث رِجَاله ثِقَات وَعَن مَحْمُود بن لبيد قل: أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا فَقَامَ غَضْبَانَ ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» حَتَّى قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَقْتُلُهُ؟ . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
محمود بن لبید بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک آدمی کے متعلق بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی ہیں، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصہ کی حالت میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا: ’’کیا اللہ عزوجل کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ ‘‘ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ اسنادہ صحیح، رواہ النسائی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب النكاح / حدیث: 3292
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضَعِيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه النسائي (142/6. 143 ح 3430) و أعل بما لا يقدح .»